Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اجرت پر لی ہوئی زمین پر عشر کا حکم؟

Fatwa no.
279-WAT
Issued
21 ربیع الآخر 1443ھ / 27 نومبر 2021ء

Question

(دعوت اسلامی) میں نے مسئلہ پڑھا ہے کہ اجرت پر کاشت کی ہو، تو بھی عشر واجب ہے۔ اس سے کیا مراد ہے؟

Answer (beginning)

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے زمین اجرت پر لی اور اس میں کاشتکاری کر کے پیداوار حاصل کی، تو اگر چہ کاشتکار زمین کا مالک نہیں ہے، لیکن پھر بھی اس پر اس زمین سے حاصل ہونے والی پید اوار پر عشر یا نصف عشر لازم ہو گا، کیونکہ عشر یا نصف عشر کے لازم ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ کا شکار اس زمین کا مالک ہو۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَزوَجَل وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم Darulifta Ahlesunnat دار الافتاء اهلسنت DARUL IFTA AHLESUNNAT Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-ifta AhleSunnat f…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.