Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دوران حمل خون آئے تو نماز کا حکم
- Fatwa no.
- 257-WAT
- Issued
- 14 ربیع الآخر 1443ھ / 20 نومبر 2021ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر حاملہ خاتون کو خون آجائے ، تو اس کے لئے نماز کا کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
حاملہ عورت کو اگر دوران حمل خون آئے، تو وہ خون حیض نہیں، بلکہ استحاضہ یعنی بیماری کا خون ہو گا۔ پس جب یہ خون حیض کا نہیں، تو اس کی وجہ سے نماز بھی معاف نہیں ہوگی، بلکہ عام دنوں کی طرح اس دوران بھی عورت پر نماز فرض ہو گی۔ پھر استحاضہ کا خون آنے کی وجہ سے غسل فرض نہیں ہوتا، البتہ یہ خون ناپاک ضرور ہو تا ہے،اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور جسم یا کپڑوں کے جس حصے پر لگے اسے بھی ناپاک کر دیتا ہے ،لہذا جس جگہ خون لگا ہو ، عورت جسم اور کپڑوں کے اس حصے کو پاک کر کے فقط وضو کر کے بھی نماز ادا کر سکتی ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.