Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا وسیلہ جائز ہے اور قرآن و حدیث سے ثابت ہے؟

Fatwa no.
248-WAT

Question

وسیلہ دینا کہاں سے ثابت ہے ؟ (دعوت اسلامی)

Answer (beginning)

اللہ پاک کی بارگاہ میں اللہ کے نیک بندوں کا وسیلہ پیش کرنا جائز ہے اور یہ قرآن وحدیث سے ثابت ہے۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسيلَةَ﴾ ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اسکی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔ (پارہ 6، سورۃ المائدہ، آیت 35) تفسیر روح البیان میں اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں ہے : ” و اعلم ان الآية الكريمة صرحت بالامر بابتغاء الوسيلة ولا بدمنها البتة فان الوصول الى الله تعالى لا يحصل الا بالوسيلة وهي علماء الحقيقة ومشايخ الطريقة “ ترجمہ: تو جان لے کہ اس آیت میں وسیلہ ڈھونڈنے کے حکم کی صراحت ہے اور بغیر وسیلہ تلاش…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.