Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ایک شخص دوسرے شخص کو قسم دے،تو کیا حکم ہے؟
- Fatwa no.
- 245-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر ایک شخص دوسرے شخص کو قسم دیتا ہے، تو کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
اگر ایک شخص دوسرے شخص کو قسم دے کہ : " تمہیں خدا کی قسم کہ تم یہ کام کرو گے یا یہ نہیں کروگے وغیرہ، "تو فقط اس کے یہ الفاظ بول دینے سے دوسرے شخص پر قسم لازم نہیں ہوگی، کیونکہ اس نے تو کچھ نہیں بولا اور اس صورت میں اگر وہ شخص اس کے خلاف بھی عمل کرے گا، تو قسم کا کفار ولازم نہیں ہو گا۔ البتہ اگر وہ دوسرا شخص بھی قسم کے الفاظ بول دے، یا اسے قبول کرتے ہوئے ”ہاں " یا اس کی مثل کوئی اور لفظ کہہ دے، تو اب اس کے حق میں د قسم ہو جائے گی۔ اور اس صورت میں اس کو توڑنے سے قسم کا کفارہ لازم ہو گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.