Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
گانے نہ سننے کی قسم کھائی پھرقسم ٹوٹ گئی
- Fatwa no.
- 244-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میں نے گانے نہ سننے کی قسم کھائی تھی کہ میں گانے نہیں سنوں گا، لیکن شیطان کے بہکاوے میں آکر گانے سن لیے ، تو اب اس قسم کا کفارہ کیا ہو گا؟
Answer (beginning)
قسم کھائیں یا نہ کھائیں، بہر صورت گانے باجے سننانا جائز و حرام ہے اور اس سے بچنا بہر صورت لازم و ضروری ہے اور اگر قسم کھائی ہو کہ گانے نہیں سنوں گا، تو اس قسم کو پورا کرنا لازم ہے۔ البتہ اگر نفس و شیطان کے بہکاوے میں آکر گانا سن لیا، تو ، تو بہ لازم ہو گی اور اس کے ساتھ قسم توڑنے کا کفارہ بھی لازم ہو گا۔ قسم کا کفارہ: اور قسم توڑنے کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو کھاناکھلائے یا ان کو کپڑے پہنائے اور جو ان میں سے کسی ایک پر بھی قدرت نہ رکھتا ہو ، وہ تین دن لگا تار روزے رکھے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.