Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ڈیوٹی ٹائم سے لیٹ ہونے کی صورت میں اوورٹائم دینا
- Fatwa no.
- 236-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی ڈیوٹی ٹائم سے لیٹ ہو جاتا ہے، تو بعد میں اوور ٹائم دیکر وہ پورا کر لے، تو کیا یہ چل جائے گا؟ جبکہ ادارے کی طرف سے ڈیوٹی ٹائم فکس ہے، لیکن اس کی وجہ سے کام میں کمی نہیں آئے گی۔
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں اگر ادارے کی طرف سے اوور ٹائم دیگر تاخیر والا وقت پورا کرنے کی اجازت ہے ، تو ملازم لیٹ ہونے کی صورت میں اوور ٹائم دیکر وقت مہینج کر سکتا ہے، لیکن اگر ادارے کی طرف سے اوور ٹائم دیکر وقت پیچ کرنے کی سہولت نہیں ہے، بلکہ ڈیوٹی کا ایک وقت مقرر ہے، تو پھر اسی وقت میں ڈیوٹی پر حاضر ہونا ضروری ہو گا، اگر ملازم لیٹ ہو یا جلدی چلے گیا یا دوران ڈیوٹی اپنا ذاتی کام کیا، وغیرہ وغیرہ، اور یہ سارے کام ادارے یا ادارے کی جانب سے ماذون و مختار شخص کی اجازت کے بغیر کئے ، تو اس وجہ سے گناہ گار بھی ہو گا، پس اس صورت میں لازم ہو گا کہ فورا سچے دل سے توبہ کرے اور آئندہ ایسا کرنے سے لازمی بچے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.