Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بینک اکاونٹ میں غلطی سے کسی کے پیسے آجائے تو کیا کریں؟
- Fatwa no.
- 232-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میرے بینک اکاؤنٹ میں غلطی سے کسی کے دس ہزار روپے آگئے ہیں، اب وہ تو نہیں ملے گا تو ان پیسوں کا کیا کریں؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں آپ خود ان پیسوں کو ہر گز استعمال نہ کریں، بلکہ بینک جاکر پیسے بھیجنے والے کی معلومات لیں کہ عموماً کئی صورتوں میں پیسے بھیجنے والے کی معلومات مل ہی جاتی ہیں،لہذ ا معلومات لے کر اصل مالک کو رقم واپس کریں اور اگر ہر طرح کی کوشش کے باوجود بھی معلومات نہ مل سکے تو بھی اس کی اتنی دیر تک تشہیر کی جائے کہ مالک مل جائے اور رقم اسے دے دی جائے اور جب ظن غالب ہو جائے کہ اب مالک نہیں ملے گا تو اسے صدقہ کر دیا جائے اور صدقہ کرنے کے بعد اگر مالک آگیا، تو اسے اختیار ہے کہ صدقہ کو جائز کر دے یانہ کرے، اگر جائز کر دیا تو ثواب پائے گا اور جائز نہ کیا، تو اگر وہ رقم موجود ہے، تو اپنی رقم لے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.