Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جمعہ کی اذان کے بعد مسجد کے لیے رکشہ یا ٹیکسی کروانا

Fatwa no.
204-WAT
Issued
23 ربیع الاول 1443ھ / 30اکتوبر 2021 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) جمعہ کی اذان کے بعد خرید و فروخت جائز نہیں ، لیکن اگر کسی نے جمعہ پڑھنے کے لئے جاتا ہے اور وہ رکشہ یا ٹیکسی بک کر کے جمعہ کے لئے جاتا ہے، تو کیا اس کا یہ فعل درست ہے، کیونکہ اس میں بھی تو اس کو کرایہ والا ایگریمنٹ کرنا پڑے گا ؟

Answer (beginning)

ا اگر کوئی شخص جمعہ کی اذان اول کے بعد ٹیکسی یار کشہ بک کروا کر جمعہ پڑھنے کے لئے جاتا ہے، تو یہ جائز ہے اور یہاں یہ چیز سعی کے منافی نہیں، بلکہ سعی میں معاون ہے، لہذا اس کی اجازت ہے۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم دار الافتاء اهلسنت DARUL IFTA AHLESUNNAT Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net f daruliftaahlesunnat Dar-ul-ifta AhleSunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net Darulifta Ahlesunnat

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.