Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سیدہ فاطمہ کے نام کا لنگر مرد کھا سکے ہیں؟

Fatwa no.
199-WAT
Issued
22 ربیع الاول 1443ھ / 29 اکتوبر 2021 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) بعض جگہوں پر یہ رواج ہے کہ حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کی فاتحہ میں جو لنگر ہوتا ہے وہ کسی مرد کو نہیں دیا جاتا ، تو کیا یہ رواج درست ہے ؟

Answer (beginning)

حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ایصال ثواب کرنا مستحب عمل ہے ، اور آپ کے ایصال ثواب کا لنگر مردو عورت سبھی کو دیا جا سکتا ہے ، مردوں کو نہ دینے کی فضول قیدیں لگانا جہالت ہے، جن سے بچا جائے۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم دار الافتاء اهلسنت DARUL IFTA AHLESUNNAT Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-ifta AhleSunnat f daruliftaahlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net Darulifta Ahlesunnat

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.