Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بے وضو نماز کی صفوں میں رکے رہنا

Fatwa no.
198-WAT
Issued
21 ربیع الاول 1443ھ / 28 اکتوبر2021ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک شخص بے وضو تھا، لیکن بھولے سے وہ جماعت میں شامل ہو گیا، پھر جب امام صاحب دور کعتیں پڑھاچکے تھے، تو اسے یاد آیا کہ میرا تو وضو ہی نہیں ہے، میں نے استنجاء کیا تھا، پھر بعد میں وضو نہیں کیا، تواب اسے وہاں پر کیا کرنا ہو گا؟ کیا وہیں رک سکتا ہے ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں جو نہی اسے بے وضو ہونا یاد آئے ، اس کے لئے حکم ہے کہ صفوں کو چیرتے ہوئے یا جس طرف سے بھی جگہ ملے باہر نکل آئے اور وضو کر کے نماز ادا کرے۔ شرمندگی کی وجہ سے وہیں نماز کی سی صورت بنائے رکھنا یا اس کے بغیر رکے رہنا، جائز نہیں ہے۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم دار الافتاء اهلسنت DARUL IFTA AHLESUNNAT Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-ifta AhleSunnat fdaruliftaahlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net Darulifta Ahlesunnat

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.