Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ریاض الجنہ میں نوافل کا طریقہ اور شرعی آداب
- Fatwa no.
- 188-WAT
- Issued
- 19 ربیع الاول 1443ھ / 26اکتوبر 2021 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اسلامی بہنوں کو ریاض الجنۃ جانے کے لیے کافی دھکم پیل کا سامنا ہوتا ہے اور جو اس رش میں دھکے وغیر ہ دے کر آگے نہ بڑھے، وہ ریاض الجنۃ حاضر نہیں ہو سکتی اور کبھی کسی عورت کا نمبر آجاتا ہے اور کبھی کوئی محروم رہ جاتی ہے۔ ایسی صورت حال میں مجھے نوافل پڑھنے کے لیے ریاض الجنتہ جانا ہی ہو گا یا پھر سبز گنبد کے سامنے حاضر ہو کر درود وسلام پڑھتی رہوں؟
Answer (beginning)
ریاض الجنہ میں نماز نفل کی ادائیگی بڑی فضیلت کا باعث ہے، لیکن وہاں جا کر نوافل پڑھنا لازم وضروری نہیں اور اس کے لیے عورتوں یا مر دوں کا دھکے دینا کہ جو دوسروں کی اذیت کا سبب ہو، ناجائز و گناہ ہے اور بالخصوص نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ م کی بارگاہ عالی میں ایسا کرنا سخت بے ادبی ہے کہ یہ وہ بارگاہ ہے کہ یہاں نوری فرشتے بھی انتہائی ادب سے حاضر ہوتے ہیں۔ لہذا اگر آسانی سے میسر ہو، تو ریاض الجنہ میں حاضر ہو کر نفل ادا کر لیجئے ، ورنہ نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سبز گنبد کے سامنے درود و سلام عرض کیجئے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.