Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
غسل میں ٹانکے والی جگہ دھوئے بغیر نماز وغیرہ پڑھنا
- Fatwa no.
- 185-WAT
- Issued
- 15 ربیع الاول 1443ھ /22اکتوبر 2021ء
Question
(دعوت اسلامی) ایک بندے کا آپریشن ہوا، آپریشن والی جگہ پر ٹانکے لگے ہوئے ہیں، اب اس پر غسل فرض ہو گیا، وہ غسل کرے گا، تو اس نے آپریشن والی جگہ پر پانی نہیں بہانا، بلکہ بقیہ جسم پر ہی بہائے گا، تو کیا وہ اس غسل کے بعد بھی نماز اور قرآن پاک و غیر و پڑھ سکتا ہے؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں اگر آپریشن والی جگہ پر پانی بہانے سے نقصان کا صحیح اندیشہ ہو مثلاً وہاں پانی بہانے سے نا قابل برداشت تکلیف ہو گی یاز خم خراب ہو جائے گا یا دیر سے اچھا ہو گا، تو اس صورت میں حکم یہ ہے کہ وہ شخص غسل کرے اور اس جگہ پر مسح کرلے۔ اگر بلا حائل مسح نہیں کر سکتا تو اس پر کوئی کپڑا ڈال کر اس پر مسح کرلے ، اس صورت میں اس جگہ کا مسح کرنا ہی دھونے کے قائم مقام ہو جائے گا اور اگر اس جگہ کا بلا حائل مسح بھی نہیں کر سکتے ، اور کپڑے کے اوپر سے بھی نہیں کر سکتے ، تو اب اس جگہ کا مسح کرنے کا حکم بھی ساقط ہو جائے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.