Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
تدفین سے پہلے ایصال ثواب کرنا
- Fatwa no.
- 177-WAT
- Issued
- 15 ربیع الاول 1443ھ / 22 اکتوبر 2021 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی کی میت رکھی ہوئی ہو اور ابھی تدفین نہ ہوئی ہو ، تو دفن کے بعد ہی اسے ایصال ثواب کریں گے یاد فن سے پہلے بھی کر سکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
ایصال ثواب کرنا قرآن و حدیث کی روشنی میں بالکل جائز ہے اور شرعی طور پر اس میں زندہ، مردہ، دفن سے پہلے یا دفن کے بعد کی کوئی قید نہیں، لہذا جس طرح دفن کے بعد ایصالِ ثواب کیا جا سکتا ہے ، اسی طرح میت کو دفن کرنے سے پہلے بھی میت کو ایصال ثواب کیا جا سکتا ہے۔ البتہ اس میں اس بات کا خیال رکھنا ہو گا کہ اگر میت کو غسل دینے سے پہلے اس کے پاس بیٹھ کر قرآن پاک پڑھنا ہو ، تو اس کو کسی کپڑے وغیرہ سے ڈھانپ کر پڑھیں۔ میت کے جسم کا کوئی حصہ منکشف (کھلا) ہو ، تو اس حالت میں میت کے قریب قرآن پاک پڑھنے کی اجازت نہیں ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.