Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قصدا قعدہ اولی چھوڑ کر سجدہ سہو کرنے کا حکم

Fatwa no.
176-WAT
Issued
15 ربیع الاول 1443ھ /22اکتوبر 2021ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی جان بوجھ کر قعدہ اولیٰ چھوڑ دے اور سجدہ سہو کر لے، تو نماز درست ہو جائے گی ؟

Answer (beginning)

اگر جان بوجھ کر قعدہ اولیٰ چھوڑا، تو اس صورت میں سجدہ سہو کر لینا کافی نہیں ہو گا، بلکہ نماز واجب الاعادہ ہو گی، کیونکہ اگر کوئی واجب بھولے سے چھوٹ جائے، تب سجدہ سہو کفایت کرتا ہے، لیکن اگر جان بوجھ کر کوئی واجب چھوڑا جائے، تو سجدہ سہو کافی نہیں ہو تا ، بلکہ اس کی وجہ سے نماز واجب الاعادہ ہو جاتی ہے اور جان بوجھ کر واجب چھوڑنے سے گناہ بھی ہوتا ہے، لہذا تو بہ بھی کرنی ہو گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.