Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنا
- Fatwa no.
- 167-WAT
- Issued
- 09 ربیع الاول 1443ھ / 16 اکتوبر 2021 ء
Question
میری کزن دریا میں گر گئی تھی۔ تین ہفتے ہو چکے ہیں ابھی تک اس کی ڈیڈ باڈی نہیں ملی۔ پوچھنا یہ ہے کہ ہم اس کا غائبانہ نماز جنازہ اور نتیجہ چالیسواں وغیرہ کرواسکتے ہیں یا نہیں ؟
Answer (beginning)
بیان کردہ صورت میں اس کے ایصال ثواب کے لیے چالیسویں وغیرہ کی محفل منعقد کی جاسکتی ہے، البتہ غائبانہ نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں، اگر پڑھیں گے تو سب گناہگار ہوں گے کیونکہ نماز جنازہ کے درست ہونے کے لیے میت کا امام کے سامنے ہونا شرط ہے۔ وَ اللهُ أَعْلَمُ عَدَ جَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم دار الافتاء اهلسنت DARUL IFTA AHLESUNNAT Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-ifta AhleSunnat fdaruliftaahlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net Darulifta Ahlesunnat
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.