Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بیوی کے حقوق ادا نہ کرنا
- Fatwa no.
- 156-WAT
- Issued
- 07 ربیع الاول 1443ھ /14اکتوبر 2021ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) جو شوہر اپنی بیوی کے ساتھ ازدواجی تعلقات قائم نہ کرے بلکہ ہاتھ تک نہ لگائے ، نہ محبت سے بات کرے بلکہ اس میں برائی نکالتا ہے اور طعنے دیتار ہے، ایسے شوہر کے بارے میں کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
شوہر پر جس طرح عورت کو نان و نفقہ اور رہنے کو مکان دینا واجب ہے یونہی گاہے گاہے اس سے جماع کرنا بھی شوہر پر واجب ہے تاکہ بیوی میں پریشان نظری پیدا نہ ہو ، اور اسے معلقہ کر دینا ( لٹکا دینا کہ اس کے حقوق ادانہ کرے) حرام، اور بیوی کی اجازت کے بغیر چار مہینے تک ترک جماع بلا عذر صحیح شرعی ناجائز ہے اور بلاوجہ شرعی بیوی میں برائی نکالنا اور اس کو طعنے دینا، دل آزاری کا سبب ہے اور مسلمان کا دل دکھانا بھی نا جائز ہے ، شوہر پر لازم ہے کہ ان چیزوں سے تو بہ کرے اور عورت کے حقوق ادا کرے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.