Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مردوں کے لئے سیلون کھولنا اور اس کا کام کرنا

Fatwa no.
143-WAT
Issued
02 ربیع الاول 1443ھ /09اکتوبر 2021ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) مردوں کے لئے سیلون کھولنا اور اس کا کام کرنا کیسا ہے ؟

Answer (beginning)

فی نفسہ سیلون کھولنا شرعاً جائز ہے ، لیکن اس کاروبار میں کسی نا جائز کام کا ارتکاب کرنا ( مثلا مردوں کے سیلون میں آنے والے مردوں کی داڑھی کو حد شرع، یعنی کم از کم چار انگل سے کم کرنا یا بالکل ہی مونڈ دینا یا ان کی داڑھی یا سر کے بالوں کو کالا کرنے کے لئے کالا کلر یا کالی مہندی لگانا یا ایسا کر یا مہندی لگانا جس کی وجہ سے بال بالکل سیاہ تو نہیں ہوتے ، لیکن ان کے استعمال کے بعد بال سیاہ ہی کی طرح لگتے ہیں وغیر ہ وغیرہ، تو یہ کام اگر چہ گاہکوں کے کہنے پہ ہی کریں ، تب بھی ) ناجائز و حرام اور گناہ ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.