Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

میاں بیوی کے محض دور رہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں ؟

Fatwa no.
122-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک عورت سات ماہ تک یا اس سے کم و بیش عرصہ تک، اپنے شوہر سے ناراض ہو کر اپنی ماں کے گھر رہے اور وہ شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے، مگر شوہر طلاق نہ دے ، پھر بعد میں شوہر کے پاس آجائے لیکن ان کے درمیان طلاق وغیر ہ نہ ہوئی ہو تو پہلا نکاح ہی کافی ہے یا دوبارہ نکاح کرنا پڑے گا ؟

Answer (beginning)

اگر کسی طرح ان کے در میان طلاق نہیں ہوئی تو محض اتنا عرصہ دور رہنے سے طلاق نہیں ہوئی۔ لہذاوہ دونوں دوبارہ نکاح کیے بغیر ایک دوسرے کے ساتھ رہ سکتے ہیں، پہلا نکاح ہی کافی ہے، دوبارہ نکاح کرنے کی حاجت نہیں۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم دار الافتاء اهلسنت DARUL IFTA AHLESUNNAT Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net f daruliftaahlesunnat Dar-ul-ifta AhleSunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net Darulifta Ahlesunnat

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.