Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ٹیٹو کے ہوتے وضو کرنے کا حکم اور بعد توبہ اسے مٹانے کا حکم

Fatwa no.
108-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی نے اپنے ہاتھ پر نام کا ٹیٹو بنوایا پھر اس کو احساس ہوا کہ یہ غلط ہے اور اس نے تو بہ بھی کر لی تو کیا اس کو صاف کر وانا ضروری ہے اور اگر صاف نہیں کرواتا تو وضو ہو جائے گا؟

Answer (beginning)

ٹیٹو کو آپریشن کروا کر یا گھرچ کر مٹانا واجب نہیں ہے کیونکہ اس میں مشقت ہے، البتہ اسے چھپا کر رکھے ، اگر کوئی دیکھ لے تو اُسے بتادے کہ میں نے توبہ کر لی ہے۔ اور صاف کیے بغیر وضو کیا تو وضو ہو جائے گا۔ وَ اللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم دار الافتاء اهلسنت DARUL IFTA AHLESUNNAT Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-ifta AhleSunnat f daruliftaahlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net Darulifta Ahlesunnat

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.