Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جس مکان کا منحوس ہونا مشہور ہو،اسے خریدنا

Fatwa no.
107-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ہم ایک مکان لینا چاہتے ہیں لیکن اس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ منحوس ہے اس طرح کہ تین لوگوں نے یہ مکان لیا ہے ان کے بچے فوت ہو گئے ہیں، تو کیا ہم یہ مکان لے سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

شریعت نے کسی چیز کو منحوس قرار نہیں دی اور اس طرح کسی چیز کو منحوس سمجھنا بے اصل ہے لیکن جب عام لوگ اسے منحوس سمجھ رہے ہیں تو اس مکان کو خریدنے سے بچنا مناسب ہے کہ اگر حسب تقدیر اسے کوئی آفت پہنچے ان کا باطل عقیدہ اور مستحکم ہو گا کہ دیکھو یہ کام کیا تھا اس کا یہ نتیجہ ہوا اور ممکن کہ شیطان اس کے دل میں بھی وسوسہ ڈالے۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَدَ جَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم دار الافتاء اهلسنت DARUL IFTA AHLESUNNAT Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-ifta…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.