Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قرض کی وجہ سے گھر کا کرایہ کم مقرر کرنا
- Fatwa no.
- 102-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) زید ایک گھر اس طرح لیتا ہے کہ اس کا ایڈوانس تین لاکھ اور ماہانہ کرایہ پانچ سو روپے ہو گا حالانکہ اس جگہ ایسے مکان کا کرایہ تین سے پانچ ہزار ہے ، تو زید کا اس طرح مکان لینا کیسا ہے ؟
Answer (beginning)
زید کا اس طرح مکان لینا جائز نہیں ہے کہ یہ سود ہے کیونکہ ایڈوانس کے طور پر دی جانے والی رقم قرض ہے اور اسی قرض کی وجہ سے اس مکان کے کرائے میں کمی کی جارہی ہے اور ہر وہ قرض جس کی وجہ سے نفع ملے وہ سود ہوتا ہے۔ وَ اللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم دار الافتاء اهلسنت DARUL IFTA AHLESUNNAT Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net f daruliftaahlesunnat Darulifta Ahlesunnat Dar-ul-ifta AhleSunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.