Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
آفس میں ماہانہ رقم جمع کرکے کسی کو قرض دینا اورواپسی پر زیادہ لینا
- Fatwa no.
- 98-WAT
Question
زیادہ لینا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر آفس اسٹاف ماہانہ مل کر دو سویا تین سو ریال جمع کریں، پھر انہیں میں سے کسی کو قرض کی ضرورت ہو تو وہ ہزار ریال لے لے ، لیکن واپسی پر پچاس ریال اضافی واپس کرے گا، تو کیا یہ جائز ہے ؟ وہ پچاس ریال جب ملیں گے ، تو سب میں تقسیم کر دیئے جائیں گے۔
Answer (beginning)
مسلمانوں کا آپس میں مل کر اس لئے رقم جمع کرنا کہ اس میں سے جو قرض لے گا، اسے واپسی پر اضافی رقم بھی دینی پڑے گی، تو یہ سخت نا جائز و حرام اور گناہ ہے، کیونکہ یہ قرض پر مشروط نفع ہے ، جو حدیث پاک کی رُو سے سود ہے اور سود کی حرمت و مذمت قرآن و حدیث میں واضح طور پر بیان کی گئی ہے، اور جس طرح سود لینا دینا حرام ہے، یونہی سودی معاملے میں کسی طرح مدد کرنا بھی حرام ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.