Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

میت کو تلقین کرنے کا طریقہ

Fatwa no.
1409-WAT

Question

(دعوت اسلامی) مفتی صاحب کی بارگاہ میں عرض ہے کہ جب مردے کو تلقین کروائی جاتی ہے تو فلاں بن فلاں کی جگہ مردہ اور اس کی ماں کا نام لیا جاتا ہے لیکن اگر تلقین کرنے والا میت کا بیٹا ہو تو وہ اپنی مرحومہ ماں یا باپ کا نام لے گا یا کیا کرے گا، یعنی امی بنت نانی کہے گا یا نام لے گا ؟ جواب عطا فرمائیں۔

Answer (beginning)

میت والد یا والدہ ہو تو ان کو بھی حدیث پاک میں مذکور طریقے کے مطابق نام لے کر ہی تلقین کی جائے، از خود نئے طریقے ایجاد کرنے سے احتراز کرنا چاہیے۔ تلقین کے متعلق صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: دفن کے بعد مردہ کو تلقین کرنا، اہل سنت کے نزدیک مشروع ہے۔۔۔۔ حدیث میں ہے: حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں : جب تمہارا کوئی مسلمان بھائی مرے اور اس کی مٹی دے چکو تو تم میں ایک شخص قبر کے سرہانے کھڑا ہو کر کہے: یافلاں بن فلانہ (یعنی اس کا اور اس کی والدہ کا نام لے ) وہ سنے گا اور جواب نہ دے گا پھر کہے: یا فلاں بن فلانہ ! وہ سیدھا ہو کر بیٹھ جائے گا پھر کہے یا فلاں بن…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.