Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
لقطہ (گری پڑی چیز) کے متعلق کا حکم ہے؟
- Fatwa no.
- 95-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) راہ میں چلتے ہوئے اگر کسی کی رقم بازیور پڑا ہوا ملے تو کیا حکم ہے ؟ اٹھا لینا چاہیے یا چھوڑ دینا چاہیے ؟ اگر اٹھالیا تو کیا کرنا ہو گا ؟
Answer (beginning)
راہ میں پڑا ہو اعمال کہیں ملے، جس کے مالک کا علم نہ ہو تو اسے لقطہ کہتے ہیں۔ (الف) اس کو اٹھانے نہ اٹھانے کے متعلق درج ذیل تفصیل ہے: اگر یہ خیال ہو کہ میں اس کے مالک کو تلاش کر کے دیدوں گا تو اُٹھا لینا مستحب ہے اور اگر اندیشہ ہو کہ شاید میں خود ہی رکھ لوں اور مالک کو نہ تلاش کروں تو چھوڑ دینا بہتر ہے اور اگر ظن غالب ہو کہ مالک کو نہ دوں گا تو اُٹھانا ناجائز ہے۔ اور اپنے لیے اٹھانا حرام ہے اور اس صورت میں غصب کے حکم میں ہے۔ اور اگر یہ ظن غالب ہو کہ میں نہ اٹھاؤں گا تو یہ چیز ضائع ہو جائے گی تو اٹھا لینا ضرور ہے لیکن اگر نہ اٹھائی اور ضائع ہو گئی تو اس پر کوئی تاوان نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.