Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
خریدوفروخت میں نفع کی شرح کتنی ہونی چاہیے؟
- Fatwa no.
- 92-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) خرید و فروخت میں بہت زیادہ نفع کمانا کیسا ہے ، شرعا نفع کی شرح کیا ہونی چاہیے ؟
Answer (beginning)
چیز خریدنے، بیچنے میں شریعت مطہرہ کی طرف سے منافع کی کوئی شرح متعین نہیں، خرید نے اور بیچنے والا، بہا بھی رضامندی سے کوئی بھی شرح طے کر سکتے ہیں، لہذا اگر کوئی اپنی چیز ، خریدار کی رضامدنی سے بہت زیادہ نفع رکھ کر بیچے ، تو جائز ہے، بشر طیکہ جھوٹ اور دھوکے وغیر و باتوں سے بچے، البتہ اگر کسی چیز کا ریٹ حکومت کی طرف سے متعین ہو اور اسے اس سے زیادہ قیمت پر بیچنا قانونا جرم ہو کہ جس کی خلاف ورزی پر پکڑ دھکڑ ہوتی ہو تو اب مقررہ ریٹ سے زیادہ بیچنا منع ہو گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.