Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کافروں کی کمپنی میں اکاونٹنٹ کی جاب کرنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 63-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میں کینیڈا سے بات کر رہا ہوں، میں یہاں ایک کافر کمپنی کے اکاؤنٹ کے شعبے میں ہوں، کمپنی ایک مسلمان سے قرض لیتی ہے اور اسے بعد میں سود کے ساتھ قرض لوٹاتی ہے ، میں نے اس کا حساب کتاب رکھنا ہوتا ہے۔ میں نے سنا تھا کہ مسلمان کافر سے سود لے ، تو جائز ہے کہ وہ سود نہیں، بلکہ نفع ہے ، تو کیا میرا یہ نوکری کرنا، جائز ہے؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں اگر وہ کمپنی ، جس میں آپ کام کر رہے ہیں، اس میں کسی بھی مسلمان کا کوئی شئیر شامل نہیں ، بلکہ وہ کمپنی خالصتا کفار کی ہے، تو اس کمپنی کو کوئی مسلمان قرض دے اور اس پر نفع حاصل کرے، اور اس نفع کو وہ سود سمجھ کر نہ لے تو جائز ہے ، پس ایسی صورت میں آپ کا وہاں نوکری کرنا بھی جائز ہے۔ البتہ اگر وہ کمپنی مسلمانوں کو سود پر قرض دینے کا بھی کام کرتی ہے ، تو آپ کا اس کے حساب کتاب کی نوکری کرنا، جائز نہیں ہو گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.