Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مریض استنجا وغیرہ پرقادرنہ ہو تو طہارت کے احکام
- Fatwa no.
- 61-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک اسلامی بہن کا سوال ہے کہ گھر میں ان کے والد اور بھائی کے علاوہ کوئی نہیں اور والد صاحب کو لقوہ ہے اور وہ استنجاد طہارت وغیرہ پر قادر نہیں ہیں جبکہ بھائی نا پینا ہے، تو ایسی صورت میں والد صاحب کی پاکی ناپاکی کا خیال وہ کس طرح رکھ سکتی ہے اور کیا وہ والد کے کپڑے وغیرہ بدل سکتی ہے۔
Answer (beginning)
دریافت کی گئی صورت میں پاکی ناپاکی کے احکام مثلا استنجاو غیر ہ اس شخص پر لازم نہیں کہ جب کوئی شخص مرض وغیرہ کے باعث اس کیفیت میں ہو کہ استنجاو غیرہ نہ کر سکے اور اس کے پاس کوئی ایسا نہیں، جس کے لیے اس کے ستر کی جگہ دیکھنا جائز ہو مثلا شوہر کا مسئلہ ہے اور بیوی نہیں تو شریعت اس سے استنجا کو ساقط کر دیتی ہے۔ اور بیوی کے علاوہ کسی دوسرے پر اس کو استنجا کر وانا واجب نہیں، بلکہ استنجا کر وانے کے لئے اس کے ستر کی جگہ کو بلاحائل چھو ناو دیکھنا بھی دیگر کے لئے جائز نہیں، البتہ کوئی ایسی صورت (جس میں اس کے ستر کو دیکھنا چھونانہ پایا جائے) اختیار کرنی چاہیے کہ اس کی مکمل صفائی ہو جائے ( مثلا ہا تھوں پر…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.