Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مہر فاطمی مقرر کرنے کی تفصیل
- Fatwa no.
- 56-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میری شادی کو چار سال ہو گئے ہیں اور ہمارا مہر فاطمی مقرر ہوا تھا، لیکن اب چار سال پہلے جو چاندی کا ریٹ تھا، اس کے حساب سے مہر فاطمی ادا کرنا ہو گا یا جب میں مہر ادا کروں گا، اس وقت کی چاندی کے ریٹ کا اعتبار ہو گا ؟
Answer (beginning)
یہ بات ذہن میں رکھیں کہ مہر فاطمی سے مراد وہ مہر ہوتا ہے کہ جو نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سیدہ کائنات فاطمتہ الزہر اور رضی اللہ عنہا کا مقرر فرمایا تھا اور سید نا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے ادا فرمایا تھا۔ اور مہر فاطمی ایک سو پچاس (150) تولہ چاندی بنتا ہے۔ اگر آپ نے چار سال پہلے مہر فاطمی کا جو ریٹ تھا، اس کے مطابق رقم مقرر کی تھی مثلا چار سال پہلے 150 تولہ چاندی کی قیمت 2 لاکھ روپے تھی اور مہر میں طے ہوا کہ اس وقت مہر فاطمی کے مطابق جور قم بنتی ہے ، جو کہ 2لاکھ روپے ہے ، وہ رقم مہر مقرر کی، تو اب 2 لاکھ روپے ہی دینے ہوں گے ، اگرچہ چاندی کے ریٹ میں اضافہ ہو چکا ہو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.