Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اللہ نے جو لکھا ہے کیا بندہ ویسا کرنے پر مجبور ہے؟

Fatwa no.
44-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی اپنی لاعلمی کی وجہ سے یہ عقیدہ رکھتا تھا کہ : " اللہ نے جو لکھا ہے بندہ ویسا کرنے پر مجبور ہے۔" پھر کتابوں کو پڑھنے کے بعد پتہ چلا کہ جو انسان کرنے والا تھا اللہ نے ویسا لکھ دیا اب پہلے عقیدے سے توبہ کر چکا ہے۔ تو کیا اس عقیدے رکھنے کی وجہ سے وہ کافر ہو گیا تھا اور اس پر تجدید نکاح لازم ہے ؟

Answer (beginning)

”اللہ تعالی نے تقدیر میں جو لکھا ہے بندہ ویسا کرنے پر مجبور ہے ایسا عقیدہ رکھنے سے بندہ کافر نہیں ہوتا، البتہ بندے کے بالکل مجبور ہونے کا عقیدہ رکھنا، گمراہی ضرور ہے۔ ایسا اعتقادر کھنے والے پر اپنے عقیدے کو درست کرنا ، اور تو بہ کرنا لازم ہے۔ تجدید نکاح لازم نہیں ہے۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَدَدَ جَنَّ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم دار الافتاء اهلسنت DARUL IFTA AHLESUNNAT Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net f daruliftaahlesunnat Dar-ul-ifta AhleSunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net Darulifta Ahlesunnat

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.