Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
وارث کے لیے وصیت کا حکم
- Answered by
- محمد عرفان مدنی عطاری
- Fatwa no.
- 39-WAT
Question
گا؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا یہ وصیت کر سکتے ہیں کہ میری یہ چیز میرے مرنے کے بعد میرے فلاں بچے کی ہے تو کیا اسی کے مطابق عمل ہو
Answer (beginning)
حدیث پاک کی رُو سے وارث کے لئے وصیت کرنا جائز نہیں ہے ، اور چونکہ بیٹا وارث ہو تا ہے ، لہذا اس کے لئے وصیت نہیں کر سکتے اور اگر کسی بیٹے کے لئے وصیت کی اور فوت ہو گیا تو اگر تمام عاقل بالغ در ثاء اپنی حالت صحت میں اس وصیت پر عمل کرنے کی اجازت دے دیں، تو اس پر عمل کیا جا سکتا ہے اور اگر بعض دور ثناء اجازت دیں اور بعض اجازت نہ دیں تو اجازت دینے والوں کے حصوں میں وصیت پر عمل ہو گا اور جو راضی نہ ہو یا جو وارث اجازت دینے کا اہل نہ ہو مثلا نا بالغ یا مجنون ہو تو اس کے حصے میں وصیت پر عمل نہیں کیا جائے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.