Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نکاح کا وکیل مرتد ہوجائے تو وکالت کا حکم

Answered by
مولانا محمد فراز عطاری مدنی
Fatwa no.
5448-WAT
Issued
12 ربیع الآخر 1448ھ /24 ستمبر 2026ء علم الافتاء اهلسنت

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم نکاح کا وکیل بنانے کے بعد مرتد ہو جائے ، پھر اسلام لائے ، تو وکالت باقی رہے گی یا نہیں ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی مسلمان عورت کسی شخص کو اپنے نکاح کا وکیل بنانے کے بعد معاذ اللہ مرتد ہو جائے ، اور بعد میں اسلام قبول کرلے ، تو کیا اس کی سابقہ نکاح کی وکالت برقرار رہے گی یا ختم ہو جائے گی ؟ جواب شریعت اسلامیہ کی رو سے اگر کوئی عورت حالت اسلام میں کسی شخص کو اپنے نکاح کا وکیل بنائے ، اور وکیل کے نکاح کرنے سے پہلے وہ خود مرتدہ ہو جائے (العیاذ باللہ تعالی)، تو وہ وکالت باطل ہو جائے گی ، اب وہ عورت بعد میں اسلام بھی لے آئے ، تب بھی وکیل کو پہلی وکالت کی…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.