Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

منال فاطمہ نام رکھنا کیسا نیز اسکا مطلب

Answered by
مولانا محمد فراز عطاری مدنی
Fatwa no.
5443-WAT
Issued
10 ربیع الآخر 1448ھ /22 ستمبر 2026ء

Question

منال فاطمہ نام رکھنا کیسا؟ جواب

Answer (beginning)

سوال منال فاطمہ نام رکھنا کیسا؟ جواب بسم الله الرحمن الرحيم منال فاطمہ نام رکھنا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) منال کا معنی ہے : جاگیر ، مال و اسباب وغیرہ ۔ معنی کے لحاظ سے منال فاطمہ نام رکھنے میں کوئی حرج نہیں ۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام صرف فاطمہ یا کسی بھی نیک خاتون مثلا امہات المومنین، صحابیات و صالحات رضی اللہ تعالی عنہن میں سے کسی کے نام پر رکھا جائے ، کہ حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے ، نیز امید ہے کہ اس سے ان نیک ہستیوں کی برکت بچی کے شامل حال ہوگی ۔ فیروزاللغات میں ہے "منال : جاگیر ۔ جائیداد ۔ مال و اسباب ۔ دھن ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.