Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
امام کا دو ستونوں کے درمیان جماعت کروانا کیسا؟
- Answered by
- مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 5436-WAT
- Issued
- 08 ربیع الاول 1448 / 22 اگست 2026 علم الافتاء اهلسنت
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم امام کا دوستونوں کے درمیان کھڑے ہو کر جماعت کروانا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) مسجد میں امام ستونوں کے درمیان کھڑے ہو کر جماعت کراسکتا ہے یا نہیں ؟ براہ مہربانی راہنمائی فرمائیں۔ جواب امام کا دوستونوں کے درمیان کھڑے ہو کر نماز پڑھانا مکروہ تنزیہی (ناپسندیدہ عمل) ہے ، جبکہ بلاضرورت ہو۔ ہاں ! اگر کوئی ضرورت ہو جیسے مقتدی زیادہ ہوں جگہ کم پڑ رہی ہو تو دو ستونوں کے درمیان الگ کھڑے ہونے میں حرج نہیں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.