Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نبیذ سے وضو کرنا کیسا؟

Answered by
ابو شاید مولانا محمد ماجد علی مدنی
Fatwa no.
5428-WAT
Issued
05 ربيع الآخر 1448ھ / 17 ستمبر 2026ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم نبیذ سے وضو کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) نبیذ سے وضو کرنے کا کیا حکم ہے ؟ جواب نبیذ میں چھوہارے یا کشمش و غیرہ کوئی میوہ ، جب اتنا ڈالیں کہ پانی اپنی طبعی رقت پر نہ رہے ، تو اس سے بالاجماع وضنونا جائز ہے ، اور اگر پانی ابھی مغلوب نہیں ہوا، وہ مائے مطلق ہی ہے ، تو اس صورت میں اس سے وضو کیا جا سکتا ہے ، اور اگر حالت مشتبہ ہو( تحقیق نہ ہو کہ پانی اس میوے سے مغلوب ہو کر بیز ہوگیا، یا ابھی نہیں ہوا) تو اس صورت میں اس سے وضو بھی کرے کہ شاید پانی ہو، اور تیسم بھی کرے کہ شاید پانی نہ ہو، اور اس صورت میں اختیار ہے کہ خواہ پہلے وضو کرے ، بعد میں تیم، یا پہلے تیم…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.