Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بیوی طلاق کا وائس میسج نہ سنے تو کیا طلاق ہوجائیگی؟

Answered by
مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
Fatwa no.
5426-WAT
Issued
05 ربيع الآخر 1448ھ /17 ستمبر 2026ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم بیوی طلاق کا میسج نہ سنے تو کیا طلاق واقع ہو جائے گی ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) شوہر اپنی بیوی کو وائس میسج کے ذریعے طلاق دے ، لیکن بیوی نے وہ وائس میسج نہ سنا ہو، تو کیا صرف وائس میسج بھیجنے سے شرعاً طلاق واقع ہو جائے گی ؟ جواب اگر شوہر نے وائس میسج کے ذریعے اپنی بیوی کو طلاق دی، اور اس میں طلاق کو میسج بھیجنے یا بیوی کے سننے پر معلق نہیں کیا ، بلکہ مطلق رکھا، تو شوہر کے بولتے ہی طلاق واقع ہو گئی ، اگر چہ وہ سینڈ نہ کرے ، اگر چہ بیوی نہ سنے ، کیونکہ شریعت نے طلاق کے معاملے میں شوہر کو مستقل بنایا ہے ، اس لئے طلاق واقع ہونے کے لئے عورت کا موجود ہونا ، اسے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.