Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اگر میں یہ کروں تو مجھے شفاعت نہ ملنے کہنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا محمد آصف عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 5419-WAT
- Issued
- 03 ربيع الآخر 1448ھ /15 ستمبر 2026ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم "اگر میں یہ کام کروں تو آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب نہ ہو ایسا کہنا کیسا؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی کہے کہ اگر میں یہ کام کروں تو آقا صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت نصیب نہ ہو، تو ایس کہنے کا کیا حکم ہے ؟ جواب ایسے جملے بولنا، اپنے حق میں بددعا کرنا ہے ، جو کہ درست نہیں، البتہ ! اس جملے سے کوئی قسم منعقد نہیں ہوگی ، ہاں ! اس طرح کے برجملے بولنے سے تو بہ کرے ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے " ولوقال: وعذاب الله، أوسخطه، أو غضبه۔۔۔ لایکون یمینا" ترجمہ : اور اگر کہا کہ (مجھ پر اللہ کا عذاب یا اس کی ناراضی یا اس کا غضب ہو، تو یہ قسم نہیں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.