Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ماموں کو زکوٰۃ دینا کیسا؟
- Answered by
- مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 5415-WAT
- Issued
- 29 ربیع الاول 1448ھ /12 ستمبر 2026ء
Answer (beginning)
بسم الله الرحمن الرحيم اپنے ماموں کو اپنی زکوۃ دینا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) سوال میرا سوال یہ ہے کہ کیا اپنے ماموں کو اپنی زکوۃ دینا شرعاً جائز ہے ؟ جواب پوچھی گئی صورت میں اگر واقعی آپ کے ماموں زکوۃ کے حق دار یعنی شرعی فقیر ہیں ( یعنی ان کی ملکیت میں قرض اور حاجت اصلیہ کے علاوہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر مال و اسباب نہ ہو اور وہ سیدیا بہاشمی بھی نہ ہو) تو ماموں کو اپنی زکوۃ دی جا سکتی ہے ، بلکہ رشتہ دار کوزکوۃ دینا زیادہ اجرو ثواب کا باعث ہے، کیونکہ اس میں زکواۃ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ صلۂ رحمی بھی ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.