Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

تنخواہ کا بیشتر حصہ گھر دینے والے پر قربانی واجب ہے؟

Answered by
مولانا محمد آصف عطارمی مدنی
Fatwa no.
5414-WAT
Issued
29 ربیع الاول 1448ھ /12 ستمبر 2026ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم تنخواہ دار جو اپنی اکثر تنخواہ گھر دیتا ہے ، اس پہ قربانی کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر ایک شخص تخواہ دار ہے ، اور کنوارہ ہے ، اور وہ اپنی تنخواہ کا بیشتر حصہ گھر دیتا ہے ، کیا ایسے شخص پر قربانی واجب ہے ؟ جواب قربانی ہر اس عاقل بالغ مقیم مسلمان پر واجب ہوتی ہے ، جس کے پاس ایام قربانی میں حاجات اصلیہ سے زائد بلندر نصاب مال (ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت) موجود ہو، اور قرض ہونے کی صورت میں قرض کی رقم نکالنے کے بعد بقیہ مال بقدر نصاب مال بنتا ہو، لہذا اگر تنخواہ کا اکثر حصہ گھر میں دینے کے باوجود قربانی کے دنوں میں حاجت اصلیہ کے علاوہ اور قرض ہو…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.