Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
وکیل کے ذریعے مال خرید کر اسی کو ادھار بیچنا کیسا؟
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم وکیل کے ذریعے سامان خرید کر وکیل کو ہی ادھار پر بیچنا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میں نے ایک شخص کو پیسے دے رکھے ہیں، اور وہ میری اجازت سے ان پیسوں کے ساتھ میری طرف سے مال خریدتا ہے ، اور پھر اس مال کو مجھ سے منافع کے ساتھ ادھار خرید لیتا ہے ؟ مثلاً وہ مجھ سے پوچھتا ہے کہ : کیا میں فلاں چیز ایک روپے ہیں پیسے میں آپ کے لیے خرید لوں، تو میں کہتا ہوں : خرید لو! پھر وہ خرید نے اور قبضہ کرنے کے بعد مجھ سے پوچھتا ہے کہ : کیا آپ یہ چیز مجھے ایک روپے پچاس پیسے میں تین دن کے ادھار پر بیچتے ہیں ؟ تو میں اس کو بیچ دیتا ہوں، تو کیا ایسا کرنا درست ہے ؟
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.