Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نماز میں ایک پاؤں پر وزن ڈالنا کیسا؟

Answered by
مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
Fatwa no.
5386-WAT
Issued
02 ربیع الاول 1448 هـ / 16 اگست 2026 علم الافتاء اهلسنت

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم نماز میں کبھی ایک پاؤں پر اور کبھی دوسرے پاؤں پر وزن ڈالنا کیسا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) نماز کے قیام کی حالت میں اگر کوئی شخص مسلسل ایک ہی پاؤں پر وزن رکھنے کے بجائے کبھی دائیں پاؤں پر اور کبھی بائیں پاؤں پر اپنا وزن منتقل کرتا رہے، تاکہ دونوں پاؤں پر باری باری وزن پڑتا رہے ، ایسا کرنا شرعاً کیسا ہے ؟ جواب نماز کے قیام میں مسلسل اور پے در پے دائیں بائیں جھومنا یا ایک طرف سے دوسری طرف حرکت کرتے رہنا مکروہ و نا پسندیدہ ہے ، اس سے بچنا چاہئے ، لیکن اس کے باوجود نماز ہو جائے گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.