Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
فجر کی نماز چھوڑنے والے کی اقتداء کرنا کیسا؟
- Answered by
- ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
- Fatwa no.
- 5377-WAT
- Issued
- 21 ربیع الاول 1448ھ /04 ستمبر 2026ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم پانچ نمازوں میں سے ایک نماز نہ پڑھنے والا امامت کروا سکتا ہے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص بلاوجہ نماز فجر نہیں پڑھتا، باقی نمازوں میں آتا ہے ، اور اس کا حلیہ بھی اسلامی ہے ، تو کیا ایسا شخص فاسق معلن کہلائے گا ، اور وہ باقی نمازوں میں امامت کراسکتا ہے ۔ ؟ اس کا جواب ارشاد فرمادیں ۔ جواب جان بوجھ کر ایک وقت کی بھی نماز ترک کرنا، سخت ناجائز و حرام، اور گناہ کبیرہ ہے ، اور اس کا مر تتب فاسق ، اور عذاب نار کا حق دار ہے ، لہذا جو شخص جان بوجھ کر فجر کی نماز نہیں پڑھتا، وہ فاسق معلن ہے ، ایسا شخص امامت کا اہل نہیں ہے ، اس کو امام بنا ناگناہ ہے ، اور اس…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.