Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
رہن رکھوایا مکان خود کرائے پر لینا کیسا؟
- Answered by
- مولانا محمد علی عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 5373-WAT
- Issued
- 20 ربیع الاول 1448ھ /03 ستمبر 2026ء
Answer (beginning)
سوال بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اپنا مکان رہن رکھوا کر پھر خود کرائے پر لینا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ہر نے زید کے پاس اپنا مکان دو سال کے لیے رہن رکھا، اس کے بعد بکر نے زید سے کہا کہ : " تم یہ گھر مجھے ہی کرایہ پر دے دو!" تو کیا زید کے لئے مرہونہ مکان بکر کو کرائے پر دینا جائز ہے ؟ جواب زید کا مرہونہ مکان بکر کو کرائے پر دینا درست نہیں، کیونکہ رہن رکھنے کے باوجود وہ مکان راہن ( بحر) کی ملکیت پر باقی ہے ، اور مالک کا اپنی ملکیت میں موجود چیز دوسرے سے کرائے پر لینا محض بے کاروبے معنی ، اور شریعت کے اصولوں کے خلاف ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.