Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
غسل کے فرائض اور انکی تفصیل
- Answered by
- مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 5361-WAT
- Issued
- 05 ربیع الاول 1448ھ / 19 اگست 2026ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم غسل کے فرائض کتنے ہیں؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ غسل کے کتنے فرائض ہیں ؟ جواب غسل کے تین فرض ہیں : (1) کلی کرنا۔ (2) ناک میں پانی ڈالنا ۔ (3) پورے ظاہر بدن پر پانی بہانا۔ یعنی منہ کے اندر ہر حصے تک اور ناک کے نرم حصے تک پانی پہنچ جائے ، نیز سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے تلووں تک جسم کے ہر ظاہر حصے اور بالوں کی جڑوں تک اس طرح پانی پہنچے کہ بدن کا کوئی حصہ بال برابر بھی خشک نہ رہ جائے ۔ اگر یہ تینوں فرائض مذکورہ طریقے کے مطابق ادا ہو جائیں تو فرض غسل ادا ہو جائے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
Appears in topics
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.