Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا غسل کیلئے صابن اور شیمپو ضروری ہیں؟

Answered by
مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
Fatwa no.
5360-WAT
Issued
04 ربیع الاول 1448ھ / 18 اگست 2026 ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم فرض غسل کے لیے صابن شیمپو استعمال کرنا ضروری ہے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی شخص پر غسل فرض ہو تو کیا پاکی حاصل کرنے کے لیے صابن یا شیمپو کا استعمال ضروری ہے ، یا صرف شرعی طریقے کے مطابق پورے جسم پر پانی بہالینا کافی ہے؟ جواب اگر کسی شخص پر غسل فرض ہو جائے تو پاکی حاصل کرنے کے لیے صابن یا شیمپو کا استعمال ضروری نہیں۔ بلکہ جنابت سے پاکی حاصل کرنے کے لئے غسل کے تین فرض مکمل طور پر ادا کر لینا ضروری ہے اور غسل میں تین چیز میں فرض ہیں : (1) کلی کرنا۔ (2) ناک میں پانی ڈالنا ۔ (3) پورے ظاہر بدن پر پانی بہانا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.