Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
فلٹر والے پانی سے وضو و غسل کرنا کیسا؟
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم فٹر والے پانی سے وضو و غسل کرنے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ فلٹر کیے ہوئے پانی سے وضو و غسل کرنا کیسا ہے ؟ جواب فلٹر شدہ پانی سے وضو و غسل کرنا بالکل جائز اور درست ہے، کیونکہ شریعت مطہرہ میں وضو اور غسل کے لیے "اء مطلق " وہ پانی جو اپنی اصلی فطرت پر باقی ہو) کا ہوناضروری ہوتا ہے ، اور چونکہ فلٹر کرنے کے عمل میں پانی سے مٹی، ریت، کثافتیں اور جراثیم دور کیے جاتے ہیں، اس عمل سے پانی اپنی حقیقت، رقت ( پتلا پن ) اور سیلان ( بہنے کی صلاحیت) پر ہی باقی رہتا ہے اور اسے ”پانی “ ہی کہا جاتا ہے،…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.