Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا حج بدل کیلئے پہلے سے حج فرض ہونا ضروری ہے؟
- Answered by
- ابوالفیضان مولانا عرفان احمد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 5338-WAT
- Issued
- 10 ربیع الاول 1448 ھ /24 اگست 2026 علم الافتاء اهلسنت
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم حج بدل کروانے کے لیے حج کا پہلے سے فرض ہونا ضروری ہے دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) جس کی طرف سے حج بدل کرنا ہے ، کیا اُس پر حج فرض ہونا ضروری ہے ؟ جواب کسی دوسرے کی طرف سے فرض حج ادا کرنا کہ اس سے حج کی فرضیت ساقط ہو جائے ، اس کے لیے چند شرائط ہیں ، جن میں سے ایک شرط یہ ہے کہ : جس کی طرف سے حج کیا جائے ، اس پر حج کرانے سے پہلے حج فرض ہو، لہذا اگر حج کرانے سے پہلے اس پر حج فرض نہیں تھا ، مثلا وہ فقیر تھا ، پھر حج کرانے کے بعد فرض ہوا، تو اب اسے خود حج کرنا فرض ہوگا ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.