Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
وقت کی تنگی کے سبب فرض نماز میں قراءت نہ کرنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا اعظم عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 5335-WAT
- Issued
- 10 ربیع الاول 1448ھ /24 اگست 2026ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم وقت تنگ ہونے کی وجہ سے فرض نماز میں قراءت نہ کی تو کیا حکم ہے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ سورج طلوع ہونے کا وقت 05:23:57am ہے ۔ ایک شخص نے 22am : 05 پر نماز شروع کی اور 23:32 : 05 پر سلام پھیر دیا ۔ تکبیر تحریمہ کہنے کے بعد دونوں رکعتوں میں 3 بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار قیام کیا ۔ رکوع اور سجود کی تسبیحات بھی ایک ایک پڑھیں ، صرف التحیات تک پڑھ کر سلام پھیر دیا ۔ کیا نماز فجر ہو گئی ؟
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.