Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اریب نام رکھنا کیسا نیز اسکا مطلب؟
- Answered by
- مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 5328-WAT
- Issued
- 11 ربیع الاول 1448 / 25 اگست 2026
Question
بچے کا نام اریب رکھنا کیسا ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
سوال بچے کا نام اریب رکھنا کیسا ہے ؟ جواب بسم الله الرحمن الرحيم بچے کا نام اریب رکھنا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) " اریب " کا معنی ہے " عقل مند ، دانا، ماہر لہذا اس معنی کے اعتبار سے بچے کا یہ نام رکھنا جائز ہے ، البتہ ! بہتر یہ ہے کہ اولاً بیٹے کا نام صرف "محمد" رکھیں ، کیونکہ حدیث پاک میں "محمد" نام رکھنے کی فضیلت اور ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ یہ فضیلت تنہا نام محمد رکھنے کی ہے ، پھر پکارنے کے لیے لڑکے کا نام انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے اسمائے مبارکہ اور صحا بہ کرام و تا بعین عظام اور بزرگان دین رضوان اللہ تعالیٰ علیم اجمعین نیک لوگوں کے ناموں میں سے کوئی…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.