Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دو شوہروں سے ہونے والی اولاد کا وراثت میں حق
- Answered by
- مولانا محمد فراز عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 5292-WAT
- Issued
- 28 صفر المظفر 1448 - 12 اگست 2026 علم الافتاء اهلسنت
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم دو شوہروں سے ہونے والی ساری اولا کو عورت کی وراثت ملے گی دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کسی عورت کی ایک جگہ شادی ہو ، وہاں سے اس کے بچے ہوں، اور پھر اسے طلاق ہو جائے ، اور پھر اس کے بعد اگر وہ دوسری شادی کر لے ، دوسری میں بھی اس کے بچے ہوں ، تو اس کی وراثت کون سی اولاد کو ملے گی ؟ جواب عورت کے پیٹ سے جو بھی اولاد پیدا ہو، خواہ وہ ایک نکاح سے پیدا ہو، یا طلاق یا شوہر کی وفات کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے کی صورت میں دوسرے نکاح سے پیدا ہو ، وہ ساری اس کی اولاد ہے ، لہذا عورت کی وفات کے بعد وہ ساری اولاد، اس کے مال وراثت کی حق دار ہوگی ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.