Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کان میں اذان نہ دی اور بچہ فوت ہوگیا تو حکم
- Answered by
- مولانا محمد فراز عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 5276-WAT
- Issued
- 20 صفر المظفر 1448ھ /04 اگست 2026ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم بچے کے کان میں اذان دینے کا موقع نہ ملا اور وہ فوت ہو گیا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ہمارے ہاں بچے کی ولادت ہوئی تھی، بچے کو پیدا ہوتے ہی شیشہ میں لگا دیا گیا ، ہمیں اس کے کان میں اذان دینا یاد نہ رہا، اور ہمیں اس کا موقع بھی نہ ملا کہ اب بچہ فوت ہو چکا ہے ، تو اذان نہ دینے کی وجہ سے ہم گناہ گار تو نہیں ہوئے ؟ جواب جب بچہ پیدا ہو تو اس کے کان میں اذان و اقامت کہنا مستحب ہے، بلکہ اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی ولادت کے موقع پر خود ان کے کان میں اذان دی ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.